پارا ترا ہو کہ غرق ہو ابحر عشق مین — خواجہ حیدر علی آتش
“Though your mercury may drown deep in the ocean of love, it is but that stain which clung to the shoreline's hem and stayed behind.”
معنی
تیرا جزو خواہ عشق کے سمندر میں ڈوب جائے، وہ تو بس وہ داغ ہے جو ساحل کے دامن میں رہ گیا۔
تشریح
اس شعر میں پارے کا کیا خوبصورت استعارہ ہے — جو بے چین ہو کر کانپتا اور بکھرتا رہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے تیرا وجود عشق کے بے کنار سمندر میں غرق ہو جائے، اصل چیز تو وہ داغ ہے جو ساحل کے دامن سے لپٹا رہ گیا۔ گہرائی میں سب کچھ بے نشان ہو جاتا ہے، مگر جو نشان کنارے پر ٹھہر گیا وہی عشق کی سچی گواہی ہے — ڈوبنا نہیں، بلکہ وہ باقی رہ جانے والا نشان ہی اہمیت رکھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
