غزل
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن اور دلکشی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ساری محفل اس کے جلووں میں گم ہے اور عاشق مداحوں کی نگاہوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اس میں عشق، محویت اور جذباتی لطافت کا نہایت خوبصورت بیان ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
सब लोग जिधर वो हैं उधर देख रहे हैं
हम देखने वालों की नज़र देख रहे हैं
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
سب لوگ اُس طرف دیکھ رہے ہیں جہاں وہ موجود ہیں، جبکہ ہم ان دیکھنے والوں کی نگاہوں کو دیکھ رہے ہیں۔
2
तेवर तिरे ऐ रश्क-ए-क़मर देख रहे हैं
हम शाम से आसार-ए-सहर देख रहे हैं
تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں
ہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں
اے چاند کو رشک دلانے والے محبوب، ہم تمہارے بدلے ہوئے تیور دیکھ رہے ہیں اور شام ہی کے وقت سے ہمیں صبح کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
3
मेरा दिल-ए-गुम-गश्ता जो ढूँडा नहीं मिलता
वो अपना दहन अपनी कमर देख रहे हैं
میرا دل گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتا
وہ اپنا دہن اپنی کمر دیکھ رہے ہیں
جب میرا کھویا ہوا دل ڈھونڈنے پر بھی نہیں مل رہا، تو محبوب اسے اپنے دہن اور اپنی کمر میں تلاش کر رہے ہیں۔
4
कोई तो निकल आएगा सरबाज़-ए-मोहब्बत
दिल देख रहे हैं वो जिगर देख रहे हैं
کوئی تو نکل آئے گا سر باز محبت
دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں
وہ لوگوں کے دل اور حوصلے کو اس امید میں پرکھ رہے ہیں کہ محبت میں جان قربان کرنے والا کوئی جانباز سامنے آ جائے گا۔
5
है मजमा-ए-अग़्यार कि हंगामा-ए-महशर
क्या सैर मिरे दीदा-ए-तर देख रहे हैं
ہے مجمع اغیار کہ ہنگامۂ محشر
کیا سیر مرے دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں
کیا یہ غیروں کا مجمع ہے یا قیامت کا ہنگامہ؟ میری اشکبار آنکھیں کیسا عجیب نظارہ دیکھ رہی ہیں۔
6
अब ऐ निगह-ए-शौक़ न रह जाए तमन्ना
इस वक़्त उधर से वो इधर देख रहे हैं
اب اے نگہ شوق نہ رہ جائے تمنا
اس وقت ادھر سے وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
اے شوق بھری نگاہ، اب کوئی تمنا ادھوری نہ رہ جائے کیونکہ اس وقت محبوب وہاں سے اس طرف دیکھ رہے ہیں۔
7
हर-चंद कि हर रोज़ की रंजिश है क़यामत
हम कोई दिन उस को भी मगर देख रहे हैं
ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامت
ہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں
اگرچہ روز روز کی یہ ناراضگی قیامت کی طرح ناگوار اور سخت ہے، مگر پھر بھی ہم چند دن اس کیفیت کو بھی جھیل کر دیکھ رہے ہیں۔
8
आमद है किसी की कि गया कोई इधर से
क्यूँ सब तरफ़-ए-राहगुज़र देख रहे हैं
آمد ہے کسی کی کہ گیا کوئی ادھر سے
کیوں سب طرف راہ گزر دیکھ رہے ہیں
کیا کوئی آنے والا ہے یا کوئی یہاں سے گزرا ہے؟ سب لوگ راستے کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں؟
9
तकरार तजल्ली ने तिरे जल्वे में क्यूँ की
हैरत-ज़दा सब अहल-ए-नज़र देख रहे हैं
تکرار تجلی نے ترے جلوے میں کیوں کی
حیرت زدہ سب اہل نظر دیکھ رہے ہیں
تمہارے جلوے میں نور کا ظہور بار بار کیوں ہوا؟ تمام صاحبِ نظر حیران ہو کر دیکھ رہے ہیں۔
10
नैरंग है एक एक तिरा दीद के क़ाबिल
हम ऐ फ़लक-ए-शोबदा-गर देख रहे हैं
نیرنگ ہے ایک ایک ترا دید کے قابل
ہم اے فلک شعبدہ گر دیکھ رہے ہیں
اے شعبدہ باز آسمان! تیرا ہر ایک تماشا اور کرتب دیکھنے کے لائق ہے، اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔
11
कब तक है तुम्हारा सुख़न-ए-तल्ख़ गवारा
इस ज़हर में कितना है असर देख रहे हैं
کب تک ہے تمہارا سخن تلخ گوارا
اس زہر میں کتنا ہے اثر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی کڑوی باتیں کب تک قابلِ برداشت رہتی ہیں اور اس زہر میں کتنا اثر ہے۔
12
कुछ देख रहे हैं दिल-ए-बिस्मिल का तड़पना
कुछ ग़ौर से क़ातिल का हुनर देख रहे हैं
کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا
کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں
کچھ لوگ زخمی دل کا تڑپنا دیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ غور سے قاتل کا ہنر اور مہارت دیکھ رہے ہیں۔
13
अब तक तो जो क़िस्मत ने दिखाया वही देखा
आइंदा हो क्या नफ़ा ओ ज़रर देख रहे हैं
اب تک تو جو قسمت نے دکھایا وہی دیکھا
آئندہ ہو کیا نفع و ضرر دیکھ رہے ہیں
اب تک تو ہم نے وہی دیکھا جو قسمت نے دکھایا، اب آگے کیا نفع یا نقصان ہوتا ہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں۔
14
पहले तो सुना करते थे आशिक़ की मुसीबत
अब आँख से वो आठ पहर देख रहे हैं
پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبت
اب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں
پہلے وہ صرف عاشق کی تکلیفوں اور پریشانیوں کے بارے میں سنا کرتے تھے، لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے اسے ہر وقت یعنی آٹھوں پہر دیکھ رہے ہیں۔
15
क्यूँ कुफ़्र है दीदार-ए-सनम हज़रत-ए-वाइज़
अल्लाह दिखाता है बशर देख रहे हैं
کیوں کفر ہے دیدار صنم حضرت واعظ
اللہ دکھاتا ہے بشر دیکھ رہے ہیں
اے واعظ، محبوب کا دیدار کرنا کفر کیوں ہے؟ جب دکھانے والا خود اللہ ہے تو انسان تو صرف دیکھ رہا ہے۔
16
ख़त ग़ैर का पढ़ते थे जो टोका तो वो बोले
अख़बार का परचा है ख़बर देख रहे हैं
خط غیر کا پڑھتے تھے جو ٹوکا تو وہ بولے
اخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں
وہ کسی غیر کا خط پڑھ رہے تھے، جب میں نے ٹوکا تو بولے کہ یہ اخبار کا ورق ہے اور ہم صرف خبر دیکھ رہے ہیں۔
17
पढ़ पढ़ के वो दम करते हैं कुछ हाथ पर अपने
हँस हँस के मिरे ज़ख़्म-ए-जिगर देख रहे हैं
پڑھ پڑھ کے وہ دم کرتے ہیں کچھ ہاتھ پر اپنے
ہنس ہنس کے مرے زخم جگر دیکھ رہے ہیں
وہ کچھ پڑھ پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کر رہے ہیں اور ہنس ہنس کر میرے دل و جگر کے زخم دیکھ رہے ہیں۔
18
मैं 'दाग़' हूँ मरता हूँ इधर देखिए मुझ को
मुँह फेर के ये आप किधर देख रहे हैं
میں داغؔ ہوں مرتا ہوں ادھر دیکھیے مجھ کو
منہ پھیر کے یہ آپ کدھر دیکھ رہے ہیں
میں 'داغ' ہوں اور آپ پر مر مٹ رہا ہوں، ذرا ادھر میری طرف دیکھیے؛ آپ مجھ سے منہ پھیر کر آخر کدھر دیکھ رہے ہیں؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
