ہے مجمع اغیار کہ ہنگامۂ محشر — داغ دہلوی
“Is this a gathering of rivals, or the tumult of Judgment Day? What a spectacle these tear-stained eyes of mine behold!”
معنی
کیا یہ غیروں کا مجمع ہے یا قیامت کا ہنگامہ؟ میری اشکبار آنکھیں کیسا عجیب نظارہ دیکھ رہی ہیں۔
تشریح
شاعر محبوب کی محفل میں رقیبوں کا جمگھٹ دیکھ کر دل گرفتہ ہے اور اس ہجوم کو روزِ محشر کی افراتفری سے تشبیہ دے رہا ہے۔ پرنم آنکھوں سے اس تکلیف دہ منظر کو ’سیر‘ کہنا ایک گہرا اور تلخ طنز ہے، جس میں محبوب کے گرد غیروں کا ہجوم دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہ شعر بے بسی، رشک اور محفلِ یار میں خود کو اجنبی پانے کے دکھ کی نہایت پردرد تصویر کشی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
