کب تک ہے تمہارا سخن تلخ گوارا — داغ دہلوی
“How long your bitter speech can be endured, we wait and see; we watch to test how potent this poison proves to be.”
معنی
ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی کڑوی باتیں کب تک قابلِ برداشت رہتی ہیں اور اس زہر میں کتنا اثر ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے تلخ لہجے اور تیکھی باتوں کو زہر سے تشبیہ دی ہے۔ عاشق شکوہ کرنے کے بجائے خاموشی سے یہ تلخی جھیل رہا ہے، جیسے وہ اپنے ہی دل کی قوتِ برداشت کا امتحان لے رہا ہو کہ یہ زہر اسے کب تک مارتا ہے۔ یہاں محبت کا وہ انوکھا درد نظر آتا ہے جہاں عاشق بے رخی اور ستم کو بھی ایک کڑے تجربے کی طرح سہتا چلا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
