ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامت — داغ دہلوی
“Though every day's estrangement brings a doomsday of despair, yet for a few more days we watch and somehow bear.”
معنی
اگرچہ روز روز کی یہ ناراضگی قیامت کی طرح ناگوار اور سخت ہے، مگر پھر بھی ہم چند دن اس کیفیت کو بھی جھیل کر دیکھ رہے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں محبت کی ایک ایسی تھکا دینے والی کیفیت بیان ہوئی ہے جہاں محبوب کی روزمرہ کی ناراضی دل پر قیامت بن کر ٹوٹتی ہے۔ اس کے باوجود عاشق رشتہ توڑ کر جانے کے بجائے خاموشی سے ٹھہرا ہوا ہے، گویا وہ اپنے ہی درد کا تماشائی بن گیا ہو۔ یہ دوری اور تلخی کے باوجود نباہنے کی وہ اداس مگر پرکشش ضد ہے جس میں انسان انجام دیکھنے کی خاطر ہر ستم جھیل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
