پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبت — داغ دہلوی
“Once they had only heard tales of a lover's plight; now with their own eyes, they watch it day and night.”
معنی
پہلے وہ صرف عاشق کی تکلیفوں اور پریشانیوں کے بارے میں سنا کرتے تھے، لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے اسے ہر وقت یعنی آٹھوں پہر دیکھ رہے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کی بے نیازی اور پھر حقیقت کے اعتراف کو بڑی خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔ پہلے تو وہ عشق کے دکھ درد اور عاشقوں کی فریاد کو محض ایک فسانہ یا سنی سنائی بات سمجھتے تھے، مگر اب شب و روز اپنی ہی آنکھوں سے عاشق کی تڑپ دیکھ کر وہ اس سچائی کو ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ محبت کا روگ کوئی فرضی کہانی نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
