غزل
ناروا کہئے ناسزا کہئے
ناروا کہئے ناسزا کہئے
اس غزل میں محبوب کے طعنوں، ناانصافیوں اور اس کی بے وفائی کا شکوہ روایتی اور پرتاثیر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کی تلخ نوائی کو ہنسی خوشی سہتے ہوئے بھی اس کے عہد شکن اور جھوٹے ہونے کا بے باک اظہار کرتا ہے، جس میں شکوہ اور وابستگی باہم پیوست ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ना-रवा कहिए ना-सज़ा कहिए
कहिए कहिए मुझे बुरा कहिए
ناروا کہئے ناسزا کہئے
کہئے کہئے مجھے برا کہئے
مجھے نامناسب کہیں یا ناشائستہ کہیں، آپ بس بولتے رہیں اور مجھے جتنا چاہیں برا کہتے رہیں۔
2
तुझ को बद-अहद ओ बेवफ़ा कहिए
ऐसे झूटे को और क्या कहिए
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے
تمہیں وعدہ خلاف اور بے وفا ہی کہنا چاہیے، کیونکہ ایسے جھوٹے شخص کو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
3
दर्द दिल का न कहिए या कहिए
जब वो पूछे मिज़ाज क्या कहिए
درد دل کا نہ کہئے یا کہئے
جب وہ پوچھے مزاج کیا کہئے
دل کا درد بیان کریں یا نہ کریں؛ جب محبوب خیریت پوچھے تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا جواب دیا جائے۔
4
फिर न रुकिए जो मुद्दआ कहिए
एक के बा'द दूसरा कहिए
پھر نہ رکئے جو مدعا کہئے
ایک کے بعد دوسرا کہئے
جب آپ اپنا مقصد یا مدعا بیان کرنا شروع کریں تو رکیے نہیں، بلکہ ایک کے بعد دوسری بات مسلسل کہتے جائیے۔
5
आप अब मेरा मुँह न खुलवाएँ
ये न कहिए कि मुद्दआ कहिए
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہئے کہ مدعا کہئے
اب آپ مجھے بولنے پر مجبور نہ کریں اور یہ مت کہیں کہ میں اپنا مدعا یا مقصد بیان کروں۔
6
वो मुझे क़त्ल कर के कहते हैं
मानता ही न था ये क्या कहिए
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہئے
وہ مجھے قتل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ باز ہی نہیں آتا تھا، اب اس پر بھلا کیا کہا جائے۔
7
दिल में रखने की बात है ग़म-ए-इश्क़
इस को हरगिज़ न बरमला कहिए
دل میں رکھنے کی بات ہے غم عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہئے
عشق کا دکھ دل میں سنبھال کر رکھنے کی چیز ہے، اسے کبھی بھی کھلے عام ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔
8
तुझ को अच्छा कहा है किस किस ने
कहने वालों को और क्या कहिए
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہئے
کس کس نے تمہیں اچھا کہا ہے؟ اب ایسا کہنے والوں سے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
9
वो भी सुन लेंगे ये कभी न कभी
हाल-ए-दिल सब से जा-ब-जा कहिए
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حال دل سب سے جا بجا کہئے
اپنے دل کا حال ہر جگہ ہر کسی سے بیان کرتے رہیں، کبھی نہ کبھی وہ بھی اسے سن ہی لیں گے۔
10
मुझ को कहिए बुरा न ग़ैर के साथ
जो हो कहना जुदा जुदा कहिए
مجھ کو کہئے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہئے
مجھے غیر کے ساتھ ملا کر برا نہ کہیں، جو کچھ بھی کہنا ہو ہم دونوں سے الگ الگ کہیں۔
11
इंतिहा इश्क़ की ख़ुदा जाने
दम-ए-आख़िर को इब्तिदा कहिए
انتہا عشق کی خدا جانے
دم آخر کو ابتدا کہئے
عشق کی انتہا صرف خدا ہی جانتا ہے، اس لیے آخری سانس کو بھی محض ایک ابتدا ہی سمجھنا چاہیے۔
12
मेरे मतलब से क्या ग़रज़ मतलब
आप अपना तो मुद्दआ कहिए
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدعا کہئے
آپ کو میرے مقصد سے کیا لینا دینا؟ یعنی آپ تو اپنی بات اور اپنا مدعا کہیے۔
13
ऐसी कश्ती का डूबना अच्छा
कि जो दुश्मन को नाख़ुदा कहिए
ایسی کشتی کا ڈوبنا اچھا
کہ جو دشمن کو ناخدا کہئے
ایسی کشتی کا ڈوب جانا ہی بہتر ہے جس میں کنارے لگنے کے لیے اپنے دشمن کو ناخدا کہنا پڑے۔
14
सब्र फ़ुर्क़त में आ ही जाता है
पर उसे देर-आश्ना कहिए
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہئے
جدائی میں صبر بالآخر آ ہی جاتا ہے، لیکن اسے بہت دیر سے آنے والا اور دیر سے مانوس ہونے والا کہنا چاہیے۔
15
आ गई आप को मसीहाई
मरने वालों को मर्हबा कहिए
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہئے
اب جب کہ آپ کو مسیحا کی طرح زندگی بخشنے کا ہنر آ گیا ہے، تو دم توڑنے والوں کا استقبال کیجیے۔
16
आप का ख़ैर-ख़्वाह मेरे सिवा
है कोई और दूसरा कहिए
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہئے
بتائیے، کیا میرے علاوہ بھی آپ کا کوئی اور خیر خواہ یا بھلا چاہنے والا ہے؟
17
हाथ रख कर वो अपने कानों पर
मुझ से कहते हैं माजरा कहिए
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہئے
وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں اور پھر مجھ سے کہتے ہیں کہ اپنا ماجرا سنائیں۔
18
होश जाते रहे रक़ीबों के
'दाग़' को और बा-वफ़ा कहिए
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغؔ کو اور با وفا کہئے
رقیبوں کے ہوش اڑتے جا رہے ہیں، آپ داغ کو اور زیادہ باوفا کہتے رہیے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
