انتہا عشق کی خدا جانے — داغ دہلوی
انتہا عشق کی خدا جانے
دم آخر کو ابتدا کہئے
“God alone knows the true bounds of love; call the final breath merely the beginning.”
— داغ دہلوی
معنی
عشق کی انتہا صرف خدا ہی جانتا ہے، اس لیے آخری سانس کو بھی محض ایک ابتدا ہی سمجھنا چاہیے۔
تشریح
اس خوبصورت شعر میں شاعر عشق کی لاانتہا اور لازوال وسعت کا ذکر کر رہا ہے۔ عام طور پر موت یا آخری سانس کو ہر تڑپ کا خاتمہ سمجھا جاتا ہے، مگر سچے عاشق کے لیے یہ فنا دراصل ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ عشق کی کوئی حد نہیں ہوتی، انسان جہاں سمجھتا ہے کہ سفر تمام ہوا، وہیں سے محبت کا اصل اور لامتناہی سفر شروع ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
