ہوش جاتے رہے رقیبوں کے — داغ دہلوی
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغؔ کو اور با وفا کہئے
“The rivals have quite lost their senses / Go on, praise Dagh as faithful even more.”
— داغ دہلوی
معنی
رقیبوں کے ہوش اڑتے جا رہے ہیں، آپ داغ کو اور زیادہ باوفا کہتے رہیے۔
تشریح
داغؔ دہلوی کا یہ شعر ان کی خاص شوخی اور چٹخارے دار انداز کی بہترین مثال ہے۔ شاعر محبوب سے بڑے دلکش اور شرارتی انداز میں کہہ رہا ہے کہ جب آپ نے مجھے باوفا کہا تو رقیبوں کے تو ہوش ہی اڑ گئے، لہٰذا اب انہیں مزید جلانے کے لیے میری تھوڑی اور تعریف کر دیجیے۔ اس شعر میں محبت کے ساتھ ساتھ رقیبوں کو چھیڑنے کا ایک پُرلطف احساس چھپا ہوا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
← Prev18 / 18
