وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں — داغ دہلوی
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہئے
“Having slain me, they casually remark: 'He simply wouldn't relent—what is there to say?'”
— داغ دہلوی
معنی
وہ مجھے قتل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ باز ہی نہیں آتا تھا، اب اس پر بھلا کیا کہا جائے۔
تشریح
اس شعر میں ستم ظریفی اور محبوب کی دل شکن لاپرواہی کا کمال کا بیان ہے۔ عاشق کو جان سے مارنے کے بعد بھی ستم گر بڑے آرام سے الزام اسی پر دھر دیتا ہے کہ وہ اپنی عاشقی اور ضد سے باز ہی نہ آتا تھا۔ یہ عشق کے اس المیے کو سمیٹتا ہے جہاں عاشق کا خلوص اور وفاداری ہی اس کا جرم بن جاتی ہے اور قاتل مسکرا کر دامن جھاڑ لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
