تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئے — داغ دہلوی

تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئے ایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے

“A breaker of vows, faithless—so you must be called; what else, after all, could one call such a liar?”

— داغ دہلوی

معنی

تمہیں وعدہ خلاف اور بے وفا ہی کہنا چاہیے، کیونکہ ایسے جھوٹے شخص کو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

تشریح

یہ شعر محبت میں بار بار ملنے والے دھوکے اور دل کی بے بسی کا گلہ کرتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کے بار بار وعدے توڑنے پر جھنجھلا کر اُسے بے وفا اور جھوٹا تو کہہ رہا ہے، مگر اس طنز کے پیچھے بھی محبت کا ایک گہرا مان اور درد چھپا ہے۔ یہ کوئی نفرت بھرا شکوہ نہیں بلکہ محبوب پر اپنائیت اور پیار کے ساتھ حق جتانے کا ایک خوبصورت انداز ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.