صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے — داغ دہلوی
“In separation's ache, patience does arrive at last; yet call it a slow companion, tardy to befriend the heart.”
معنی
جدائی میں صبر بالآخر آ ہی جاتا ہے، لیکن اسے بہت دیر سے آنے والا اور دیر سے مانوس ہونے والا کہنا چاہیے۔
تشریح
یہ شعر جدائی کے ایک تلخ سچ کو بڑی سادگی سے بیان کرتا ہے، جہاں شاعر صبر کو ایک ایسے سست دوست کے روپ میں دکھاتا ہے جو شناسائی پیدا کرنے میں بہت دیر لگا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہجر میں دل کو بالآخر قرار اور تسلی نصیب تو ہو جاتی ہے، مگر تب تک روح تڑپ تڑپ کر نڈھال ہو چکی ہوتی ہے۔ سکون آتا ضرور ہے، لیکن اس کی یہ تاخیر دل کی ساری خوشیاں چھین چکی ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
