غزل
وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ
وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ
یہ غزل عشق کی اس ہمہ گیر کیفیت کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب کے نظروں میں بستے ہی عشق کی آگ عقل و ہوش کو خاکستر کر دیتی ہے۔ وارفتگی اور التجا سے بھرپور شاعر اپنے حیا دار محبوب کو ظاہری دنیا کے تکلفات چھوڑ کر اپنے دل کے چمن میں اتر آنے کی والہانہ دعوت دیتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
वो सनम जब सूँ बसा दीदा-ए-हैरान में आ
आतिश-ए-इश्क़ पड़ी अक़्ल के सामान में आ
وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ
آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ
جب سے وہ محبوب میری حیرت زدہ آنکھوں میں آ کر بسا ہے، عقل و فہم کے تمام سامان میں عشق کی آگ لگ گئی ہے۔
2
नाज़ देता नहीं गर रुख़्सत-ए-गुल-गश्त-ए-चमन
ऐ चमन-ज़ार-ए-हया दिल के गुलिस्तान में आ
ناز دیتا نہیں گر رخصت گل گشت چمن
اے چمن زار حیا دل کے گلستان میں آ
اگر تمہارا ناز تمہیں باغ کی سیر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، تو اے حیا کے چمن، تم میرے دل کے گلستان میں آ جاؤ۔
3
ऐश है ऐश कि उस मह का ख़याल-ए-रौशन
शम्अ' रौशन किया मुझ दिल के शबिस्ताँ में आ
عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن
شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستاں میں آ
یہ بڑی خوشی اور عیش کی بات ہے کہ اس چاند جیسے محبوب کے روشن خیال نے آ کر میرے دل کے شبستان میں شمع روشن کر دی ہے۔
4
याद आता है मुझे वो दो गुल-ए-बाग़-ए-वफ़ा
अश्क करते हैं मकाँ गोशा-ए-दामान में आ
یاد آتا ہے مجھے وو دو گل باغ وفا
اشک کرتے ہیں مکاں گوشۂ دامان میں آ
جب مجھے وفا کے باغ کے وہ دو پھول یاد آتے ہیں، تو آنسو آ کر میرے دامن کے گوشے میں اپنا ٹھکانا بنا لیتے ہیں۔
5
मौज-ए-बे-ताबी-ए-दिल अश्क में हुई जल्वा-नुमा
जब बसी ज़ुल्फ़-ए-सनम तब-ए-परेशान में आ
موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما
جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ
جب محبوب کی زلفیں میری پریشان طبیعت میں آ کر بس گئیں، تو دل کی بے تابی کی موج آنسوؤں کی صورت میں ظاہر ہو گئی۔
6
नाला-ओ-आह की तफ़्सील न पूछो मुझ सूँ
दफ़्तर-ए-दर्द बसा इश्क़ के दीवान में आ
نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں
دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ
مجھ سے میری آہ و فریاد کی تفصیل مت پوچھو، کیونکہ عشق کے دیوان میں درد کا ایک پورا دفتر سمایا ہوا ہے۔
7
पंजा-ए-इश्क़ ने बेताब किया जब सूँ मुझे
चाक-ए-दिल तब सूँ बसा चाक-ए-गरेबान में आ
پنجۂ عشق نے بیتاب کیا جب سوں مجھے
چاک دل تب سوں بسا چاک گریبان میں آ
جب سے عشق کے پنجے نے مجھے بے چین کیا ہے، تب سے میرے دل کا زخم آ کر گریبان کے چاک میں بس گیا ہے۔
8
देख ऐ अहल-ए-नज़र सब्ज़ा-ए-ख़त में लब-ए-लाल
रंग-ए-याक़ूत छुपा है ख़त-ए-रैहान में आ
دیکھ اے اہل نظر سبزۂ خط میں لب لعل
رنگ یاقوت چھپا ہے خط ریحاں میں آ
اے صاحبِ نظر، رخسار کے نوخیز سبز خط کے درمیان ان سرخ ہونٹوں کو دیکھ؛ آ اور دیکھ کہ کس طرح خطِ ریحان کے اندر یاقوت کا رنگ چھپا ہوا ہے۔
9
हुस्न था पर्दा-ए-तजरीद में सब सूँ आज़ाद
तालिब-ए-इश्क़ हुआ सूरत-ए-इंसान में आ
حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد
طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ
حسن تجرید اور بے تعلقی کے پردے میں سب سے آزاد تھا، لیکن عشق کی طلب میں وہ انسان کی صورت اختیار کر کے ظاہر ہوا۔
10
शैख़ यहाँ बात तिरी पेश न जावे हरगिज़
अक़्ल कूँ छोड़ के मत मज्लिस-ए-रिंदान में आ
شیخ یہاں بات تری پیش نہ جاوے ہرگز
عقل کوں چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ
اے شیخ! یہاں تمہاری بات ہرگز نہیں چلے گی، اس لیے عقل کو چھوڑے بغیر رندوں کی محفل میں مت آؤ۔
11
दर्द-मंदाँ को ब-जुज़ दर्द नहीं सैद मुराद
ऐ शह-ए-मुल्क-ए-जुनूँ ग़म के बयाबान में आ
درد منداں کو بجز درد نہیں صید مراد
اے شہ ملک جنوں غم کے بیابان میں آ
درد مندوں کے لیے درد کے سوا کوئی اور مطلوبہ شکار نہیں ہے، اس لیے اے جنون کی سلطنت کے بادشاہ، غم کے بیابان میں آ جا۔
12
हाकिम-ए-वक़्त है तुझ घर में रक़ीब-ए-बद-ख़ू
देव मुख़्तार हुआ मुल्क-ए-सुलैमान में आ
حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بد خو
دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ
تیرے گھر میں بد خصلت رقیب حکمران بن چکا ہے؛ ہائے افسوس کہ حضرت سلیمان کی سلطنت پر کسی دیو کا قبضہ ہو گیا ہے۔
13
चश्मा-ए-आब-ए-बक़ा जग में किया है हासिल
यूसुफ़-ए-हुस्न तिरे चाह-ए-ज़नख़दान में आ
چشمۂ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل
یوسف حسن ترے چاہ زنخدان میں آ
اے حسن کے یوسف! آبِ حیات کے چشمے نے اس دنیا میں تیری ٹھوڑی کے گڑھے میں اتر کر ہی اپنا وجود حاصل کیا ہے۔
14
जग के ख़ूबाँ का नमक हो के नमक-पर्वर्दा
छुप रहा आ के तिरे लब के नमक-दान में आ
جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ
چھپ رہا آ کے ترے لب کے نمک دان میں آ
دنیا بھر کے حسینوں کا نمک اور حسن پروان چڑھ کر، تیرے ہونٹوں کے نمک دان میں آ کر چھپ گیا ہے۔
15
बस कि मुझ हाल सूँ हम-सर है परेशानी में
दर्द कहती है मिरा ज़ुल्फ़ तिरे कान में आ
بس کہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں
درد کہتی ہے مرا زلف ترے کان میں آ
تمہاری پریشان زلف اضطراب میں میرے حال کے اس قدر برابر ہے کہ وہ تمہارے کان کے قریب آ کر میرا درد بیان کرتی ہے۔
16
ग़म सूँ तेरे है तरह्हुम का महल हाल-ए-'वली'
ज़ुल्म को छोड़ सजन शेवा-ए-एहसान में आ
غم سوں تیرے ہے ترحم کا محل حال ولیؔ
ظلم کو چھوڑ سجن شیوۂ احسان میں آ
تیرے غم کی وجہ سے ولی کا حال اب رحم کے لائق ہو چکا ہے؛ اے محبوب، اب ظلم چھوڑ دے اور لطف و احسان کا رویہ اختیار کر۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
