غم سوں تیرے ہے ترحم کا محل حال ولیؔ — ولی دکنی

غم سوں تیرے ہے ترحم کا محل حال ولیؔ ظلم کو چھوڑ سجن شیوۂ احسان میں آ

“Wali's plight, from grief of you, now calls for pity and grace; forsake your cruelty, beloved, and turn to mercy’s embrace.”

— ولی دکنی

معنی

تیرے غم کی وجہ سے ولی کا حال اب رحم کے لائق ہو چکا ہے؛ اے محبوب، اب ظلم چھوڑ دے اور لطف و احسان کا رویہ اختیار کر۔

تشریح

ولی دکنی اس شعر میں اپنے محبوب کے حضور نہایت سادگی، عاجزی اور سچے جذبے سے فریاد کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تیرے دیے ہوئے غم نے میرا ایسا حال کر دیا ہے کہ اب میں مزید ستائے جانے کے بجائے صرف رحم اور شفقت کا مستحق بن چکا ہوں۔ دکنی لہجے کے میٹھے لفظ ’سجن‘ کا استعمال کر کے شاعر اپنے محبوب کو بڑی اپنائیت سے مناتا ہے کہ اب بے رخی چھوڑ دو اور لطف و کرم کی خوبصورت راہ اختیار کرو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev16 / 16