جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ — ولی دکنی
“Nurtured on the charm of all the world's fair beauties, salt came to seek refuge within the saltcellar of your lips.”
معنی
دنیا بھر کے حسینوں کا نمک اور حسن پروان چڑھ کر، تیرے ہونٹوں کے نمک دان میں آ کر چھپ گیا ہے۔
تشریح
اردو شاعری میں لفظ 'نمک' حسن کی ملاحت، شوخی اور پرکشش سلونے پن کی علامت ہے۔ شاعر بڑی نفاست اور بے تکلفی سے کہتا ہے کہ دنیا کے تمام حسینوں کا نمک دراصل محبوب کے حسن کی بخشش ہے، جو عاجز آ کر محبوب کے لبوں کے نمک دان ہی میں چھپ گیا۔ یہ محبوب کے مسحور کن ہونٹوں کی تعریف کا ایک انتہائی پیارا اور شوخ انداز ہے جو قاری کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
