موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما — ولی دکنی

موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ

“The surge of the heart's unrest was revealed in weeping tears, when the beloved's tangled locks came to dwell in my troubled soul.”

— ولی دکنی

معنی

جب محبوب کی زلفیں میری پریشان طبیعت میں آ کر بس گئیں، تو دل کی بے تابی کی موج آنسوؤں کی صورت میں ظاہر ہو گئی۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی زلف اور اپنے دل کی بے تابی کا بڑا دلکش تعلق باندھا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کے گیسو پریشانی اور والہانہ الجھن کا استعارہ ہیں، اور جب ان کی یاد عاشق کے پریشان حال دل میں اترتی ہے تو اندر کا اضطراب بیدار ہو جاتا ہے۔ دل کی یہ بے قراری پھر چھپائے نہیں چھپتی اور موج بن کر آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میں نمایاں ہو جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.