حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد — ولی دکنی

حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

“Veiled in pure transcendence, Beauty was unchained and free; / Yet seeking love, it came clothed in humanity.”

— ولی دکنی

معنی

حسن تجرید اور بے تعلقی کے پردے میں سب سے آزاد تھا، لیکن عشق کی طلب میں وہ انسان کی صورت اختیار کر کے ظاہر ہوا۔

تشریح

ولی دکنی نے اس شعر میں ایک دلکش صوفیانہ راز کھولا ہے کہ حسنِ ازل پہلے ہر قید اور صورت سے آزاد، اپنی تجرید کے پردے میں تنہا تھا۔ مگر حسن کی سرشت ہی ایسی ہے کہ وہ چاہے جانے کی آرزو رکھتا ہے، اسے محبت کی تمنا ہوئی۔ چنانچہ محبت کا ذائقہ چکھنے اور عشق کی طلب پوری کرنے کے لیے وہی بے پایاں حسن انسان کے خوبصورت روپ میں ڈھل کر دنیا میں جلوہ گر ہو گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.