چشمۂ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل — ولی دکنی
“The spring of the elixir of life has found its true place on earth, descending into the well of your dimpled chin, O Joseph of beauty.”
معنی
اے حسن کے یوسف! آبِ حیات کے چشمے نے اس دنیا میں تیری ٹھوڑی کے گڑھے میں اتر کر ہی اپنا وجود حاصل کیا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے حسن کی تعریف میں روایتی اور دلکش استعاروں کو یکجا کر دیا ہے۔ حضرت یوسف حسن کا کمال ہیں جنہیں کنویں میں اتارا گیا تھا، اور شاعر محبوب کی ٹھوڑی کے گڑھے کو چاہِ یوسف سے تشبیہ دیتا ہے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ حیاتِ جاوداں عطا کرنے والا آبِ حیات دنیا میں کہیں اور نہیں، بلکہ محبوب کے اس چاہِ زنخداں میں پناہ گزیں ہو چکا ہے، یعنی اس کے جلوے میں ہی ابدی زندگی کا راز پنہاں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
