وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ — ولی دکنی
“Ever since that idol came to dwell within my wonder-struck eyes, the fire of love has consumed the storehouse of reason.”
معنی
جب سے وہ محبوب میری حیرت زدہ آنکھوں میں آ کر بسا ہے، عقل و فہم کے تمام سامان میں عشق کی آگ لگ گئی ہے۔
تشریح
شاعر فرماتے ہیں کہ جب سے وہ حسین محبوب میری حیرت زدہ آنکھوں میں آ بسا ہے، دل میں محبت کا ایسا شعلہ بھڑکا ہے جس نے ہوش و عقل کا سارا اثاثہ جلا کر خاک کر دیا ہے۔ یہاں عقل کو ایک ساز و سامان یا ذخیرے سے اور عشق کو ایک بے قابو آگ سے تشبیہ دی گئی ہے جو دنیاوی فہم و فراست کو پل بھر میں مٹا دیتی ہے۔ یہ شعر جنونِ عشق کی اس کیفیت کا دلکش بیان ہے جہاں دل کے جلووں کے آگے عقل کی ہر دلیل بے بس اور لاچار ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
