غزل

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو
میر انیس· Ghazal· 17 shers· radif: को

یہ غزل بلند نگاہ اور صاحبِ بصیرت انسانوں کے فکری ارتقا اور عزم کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اس میں مجازی حسن میں صانعِ حقیقی کی کاریگری کے مشاہدے اور روحانی و فکری بلندی کے احساس کو بڑی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
सदा है फ़िक्र-ए-तरक़्क़ी बुलंद-बीनों को हम आसमान से लाए हैं इन ज़मीनों को
سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو
بلند نظر رکھنے والوں کو ہمیشہ ترقی اور بلندی کی ہی فکر رہتی ہے، جبکہ ہم ان زمینوں کو آسمان سے نیچے لے کر آئے ہیں۔
2
पढ़ें दुरूद न क्यूँ देख कर हसीनों को ख़याल-ए-सनअत-ए-साने है पाक-बीनों को
پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو
پاک نظر رکھنے والے خوبصورت لوگوں کو دیکھ کر درود کیوں نہ پڑھیں، کیونکہ وہ ان کے حسن میں دراصل خدا کی کاریگری کا جلوہ دیکھتے ہیں۔
3
कमाल-ए-फ़क़्र भी शायाँ है पाक-बीनों को ये ख़ाक तख़्त है हम बोरिया-नशीनों को
کمال فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کو یہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو
فقر کا کمال صرف پاک نگاہ رکھنے والوں کو ہی زیب دیتا ہے، اور ہم جیسے بوریے پر بیٹھنے والوں کے لیے یہ خاک ہی تخت ہے۔
4
लहद में सोए हैं छोड़ा है शह-नशीनों को क़ज़ा कहाँ से कहाँ ले गई मकीनों को
لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو قضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو
شاہی محلات کو چھوڑ کر لوگ اب قبر میں سو رہے ہیں، موت ان مکینوں کو کہاں سے کہاں لے آئی ہے۔
5
ये झुर्रियाँ नहीं हाथों पे ज़ोफ़-ए-पीरी ने चुना है जामा-ए-असली की आस्तीनों को
یہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نے چنا ہے جامۂ اصلی کی آستینوں کو
میرے ہاتھوں پر یہ جھریاں نہیں ہیں، بلکہ بڑھاپے کی کمزوری نے میرے اصلی لباس کی آستینوں میں سلوٹیں ڈال دی ہیں۔
6
लगा रहा हूँ मज़ामीन-ए-नौ के फिर अम्बार ख़बर करो मिरे ख़िर्मन के ख़ोशा-चीनों को
لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
میں ایک بار پھر نئے مضامین کے ڈھیر لگا رہا ہوں؛ میرے کھلیان سے خوشہ چینی کرنے والوں کو اس کی خبر کر دو۔
7
भला तरद्दुद-ए-बेजा से उन में क्या हासिल उठा चुके हैं ज़मींदार जिन ज़मीनों को
بھلا تردد بے جا سے ان میں کیا حاصل اٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو
جن زمینوں سے زمیندار پہلے ہی فائدہ یا پیداوار حاصل کر چکے ہیں، ان کے لیے بے کار کی فکر یا محنت کرنے سے کیا حاصل؟
8
उन्हीं को आज नहीं बैठने की जा मिलती मुआ'फ़ करते थे जो लोग कल ज़मीनों को
انہیں کو آج نہیں بیٹھنے کی جا ملتی معاف کرتے تھے جو لوگ کل زمینوں کو
آج انہی لوگوں کو بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے، جو کل تک دوسروں کو زمینیں معاف (عطا) کیا کرتے تھے۔
9
ये ज़ाएरों को मिलीं सरफ़राज़ियाँ वर्ना कहाँ नसीब कि चूमें मलक जबीनों को
یہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہ کہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو
یہ بلند عزت اور سرفرازی صرف زائرین کو نصیب ہوئی ہے، ورنہ فرشتوں کی ایسی قسمت کہاں تھی کہ وہ انسانوں کی پیشانیوں کو چومتے۔
10
सजाया हम ने मज़ामीं के ताज़ा फूलों से बसा दिया है इन उजड़ी हुई ज़मीनों को
سجایا ہم نے مضامیں کے تازہ پھولوں سے بسا دیا ہے ان اجڑی ہوئی زمینوں کو
ہم نے نئے مضامین کے تازہ پھولوں سے سجا کر ان اجڑی ہوئی زمینوں کو دوبارہ آباد کر دیا ہے۔
11
लहद भी देखिए इन में नसीब हो कि न हो कि ख़ाक छान के पाया है जिन ज़मीनों को
لحد بھی دیکھیے ان میں نصیب ہو کہ نہ ہو کہ خاک چھان کے پایا ہے جن زمینوں کو
دیکھنا یہ ہے کہ بڑی محنت اور خاک چھان کر جن زمینوں کو حاصل کیا ہے، آخرکار ان میں مجھے ایک قبر بھی نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔
12
ज़वाल-ए-ताक़त ओ मू-ए-सपीद ओ ज़ोफ़-ए-बसर इन्हीं से पाए बशर मौत के क़रीनों को
زوال طاقت و موئے سپید و ضعف بصر انہیں سے پائے بشر موت کے قرینوں کو
طاقت کا کم ہونا، بالوں کا سفید ہونا اور بینائی کا کمزور پڑنا—انہی نشانیوں سے انسان موت کے قریب آنے کے آثار کو پہچانتا ہے۔
13
नहीं ख़बर उन्हें मिट्टी में अपने मिलने की ज़मीं में गाड़ के बैठे हैं जो दफ़ीनों को
نہیں خبر انہیں مٹی میں اپنے ملنے کی زمیں میں گاڑ کے بیٹھے ہیں جو دفینوں کو
جو لوگ خزانوں کو زمین میں دفن کر کے بیٹھے ہیں، انہیں یہ خبر ہی نہیں کہ ایک دن خود انہیں بھی مٹی میں مل جانا ہے۔
14
ख़बर नहीं उन्हें क्या बंदोबस्त-ए-पुख़्ता की जो ग़स्ब करने लगे ग़ैर की ज़मीनों को
خبر نہیں انہیں کیا بندوبست پختہ کی جو غصب کرنے لگے غیر کی زمینوں کو
کیا ان لوگوں کو اس پختہ انتظام یا حساب کی کوئی خبر نہیں ہے جو دوسروں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے لگے ہیں؟
15
जहाँ से उठ गए जो लोग फिर नहीं मिलते कहाँ से ढूँड के अब लाएँ हम-नशीनों को
جہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے کہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو
جو لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں وہ پھر کبھی واپس نہیں ملتے، اب ہم اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کو کہاں سے تلاش کر کے لائیں۔
16
नज़र में फिरती है वो तीरगी ओ तन्हाई लहद की ख़ाक है सुर्मा मआल-बीनों को
نظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائی لحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو
نظروں کے سامنے ہر وقت وہ اندھیرا اور تنہائی گھومتی رہتی ہے؛ انجام پر نظر رکھنے والوں کے لیے قبر کی خاک ہی آنکھوں کا سرمہ ہے۔
17
ख़याल-ए-ख़ातिर-ए-अहबाब चाहिए हर दम 'अनीस' ठेस न लग जाए आबगीनों को
خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
ہر وقت دوستوں کے دلوں اور جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، اے انیسؔ، ایسا نہ ہو کہ ان شیشے جیسے نازک دلوں کو کوئی ٹھیس پہنچ جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.