“The zenith of renunciation befits the pure of sight; for us who sit on humble mats, this very dust is a throne.”
فقر کا کمال صرف پاک نگاہ رکھنے والوں کو ہی زیب دیتا ہے، اور ہم جیسے بوریے پر بیٹھنے والوں کے لیے یہ خاک ہی تخت ہے۔
یہ شعر فقر و درویشی کے حقیقی وقار اور خودداری کا شاندار اظہار ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جن کی نظریں پاکیزہ اور باطنی بصیرت سے روشن ہوتی ہیں، ان کے لیے مادی دولت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ چٹائی پر بیٹھنے والے ان فقیروں کے لیے قناعت ہی اصل بادشاہی ہے، اور خاک کی یہ زمین ان کے حق میں شاہی تخت بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
