نظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائی لحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو

“That gloom and solitude forever haunt the sight; for those who see the ultimate end, the grave's dust is kohl for the eyes.”

— میر انیس
معنی

نظروں کے سامنے ہر وقت وہ اندھیرا اور تنہائی گھومتی رہتی ہے؛ انجام پر نظر رکھنے والوں کے لیے قبر کی خاک ہی آنکھوں کا سرمہ ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر زندگی کے انجام اور موت کی سچائی کو ایک گہرے استعارے میں بیان کر رہے ہیں۔ جو لوگ مآل بین ہیں اور دنیا کی وقتی چمک دمک سے آگے اپنا انجام دیکھ سکتے ہیں، ان کی نگاہوں میں قبر کا اندھیرا اور تنہائی ہر وقت بسی رہتی ہے۔ ان کے لیے لحد کی خاک آنکھوں کے سرمے کی مانند ہے، جو بصارت کو جِلا بخش کر انہیں فانی دنیا کی اصل حقیقت یاد دلاتی رہتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.