“That gloom and solitude forever haunt the sight; for those who see the ultimate end, the grave's dust is kohl for the eyes.”
نظروں کے سامنے ہر وقت وہ اندھیرا اور تنہائی گھومتی رہتی ہے؛ انجام پر نظر رکھنے والوں کے لیے قبر کی خاک ہی آنکھوں کا سرمہ ہے۔
اس شعر میں شاعر زندگی کے انجام اور موت کی سچائی کو ایک گہرے استعارے میں بیان کر رہے ہیں۔ جو لوگ مآل بین ہیں اور دنیا کی وقتی چمک دمک سے آگے اپنا انجام دیکھ سکتے ہیں، ان کی نگاہوں میں قبر کا اندھیرا اور تنہائی ہر وقت بسی رہتی ہے۔ ان کے لیے لحد کی خاک آنکھوں کے سرمے کی مانند ہے، جو بصارت کو جِلا بخش کر انہیں فانی دنیا کی اصل حقیقت یاد دلاتی رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
