“Have they no inkling of that firm, unyielding reckoning, those who set about usurping the lands of another?”
کیا ان لوگوں کو اس پختہ انتظام یا حساب کی کوئی خبر نہیں ہے جو دوسروں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے لگے ہیں؟
شاعر نے اس شعر میں پٹوار اور زمینی بندوبست کے استعارے سے انسان کی حرص اور غفلت پر بڑی گہری چوٹ کی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے حقوق اور زمینوں پر زبردستی قابض ہو جاتے ہیں، وہ قدرت کے اس اٹل فیصلے اور پختہ حساب کتاب سے بالکل بے پروا دکھائی دیتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں احساس دلاتا ہے کہ دنیا کا دبدبہ عارضی ہے، مگر مکافاتِ عمل اور آخری عدالت کا نظام بے حد مضبوط اور لازمی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
