“Today, they cannot find even a place to sit and rest / Those who, but yesterday, granted vast lands at their behest.”
آج انہی لوگوں کو بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے، جو کل تک دوسروں کو زمینیں معاف (عطا) کیا کرتے تھے۔
یہ شعر وقت کے بے رحم تغیر اور گردشِ ایام کا ایک دردناک نوحہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جن کے جاہ و جلال اور سخاوت کا یہ عالم تھا کہ وہ جاگیریں بخش دیا کرتے تھے، آج حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ خود ان کے پاس سر چھپانے یا بیٹھنے کے لیے ذرا سی جگہ بھی نہیں بچی۔ یہ شعر انسان کو دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے کہ اقتدار اور دولت کے عروج کو زوال کی نظر ہوتے دیر نہیں لگتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
