“One must ever be mindful of the feelings of friends; O Anees, take care lest a blow bruise these fragile crystals of glass.”
ہر وقت دوستوں کے دلوں اور جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، اے انیسؔ، ایسا نہ ہو کہ ان شیشے جیسے نازک دلوں کو کوئی ٹھیس پہنچ جائے۔
میر انیس اس شعر میں دلوں کی نزاکت اور تعلقات کے احترام کا بہت خوبصورت سبق دیتے ہیں۔ وہ دوستوں کے دلوں کو 'آبگینے' یعنی شیشے کے نازک برتنوں سے تشبیہ دیتے ہیں، جنہیں ذرا سی تلخی یا لاپروائی بھی توڑ سکتی ہے۔ شاعر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچی محبت اور دوستی کا حق تبھی ادا ہوتا ہے جب ہم ہر لمحہ اپنوں کے احساسات کا پاس رکھیں اور انہیں کبھی رنجیدہ نہ ہونے دیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
