“What profit lies in futile toil over those grounds, from which the masters have already reaped their yield?”
جن زمینوں سے زمیندار پہلے ہی فائدہ یا پیداوار حاصل کر چکے ہیں، ان کے لیے بے کار کی فکر یا محنت کرنے سے کیا حاصل؟
اوپری سطح پر یہ شعر ایک عام سی بات کہتا ہے کہ جن کھیتوں سے زمیندار سارا فائدہ پہلے ہی سمیٹ چکے ہیں، ان پر مزید محنت کرنا لاحاصل ہے۔ مگر اس شعر کا اصل لطف لفظ 'زمین' کی رعایتِ لفظی میں پوشیدہ ہے، جس سے مراد غزل کی بحر اور ردیف و قافیہ بھی ہے۔ شاعر مسکرا کر یہ نکتہ سمجھا رہا ہے کہ جن زمینوں پر پرانے اساتذۂ سخن اپنا سکّہ جما چکے ہیں، اب ان میں سر کھپانے سے نیا شاعر کیا حاصل کر پائے گا!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
