“Once again I pile high the granary of novel themes; go send word to the gleaners of my harvest floor.”
میں ایک بار پھر نئے مضامین کے ڈھیر لگا رہا ہوں؛ میرے کھلیان سے خوشہ چینی کرنے والوں کو اس کی خبر کر دو۔
اس شعر میں شاعر نے اپنی خلاقانہ سوچ اور اچھوتے خیالات کو ایک بھرپور فصل اور اناج کے انبار سے تشبیہ دی ہے۔ وہ فخریہ مگر دلکش انداز میں اپنے خوشہ چینوں یعنی مقلدین اور فیض پانے والوں کو پکارتا ہے کہ نیا فکری خرمن تیار ہے، آؤ اور خوشے چن لو۔ یہ ایک قادر الکلام استاد کی اپنی لامتناہی زرخیزی اور ادبی برتری پر پختہ اعتماد کا شاندار اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
