“Let us see if even a grave will be my lot in these grounds, which I have gained only after sifting through the dust.”
دیکھنا یہ ہے کہ بڑی محنت اور خاک چھان کر جن زمینوں کو حاصل کیا ہے، آخرکار ان میں مجھے ایک قبر بھی نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔
یہ شعر بے پناہ جدوجہد کے بعد بھی ملنے والی بیگانگی اور محرومی کے درد کا آئینہ دار ہے۔ شاعر نے جن زمینوں، بستیوں یا تمناؤں کو حاصل کرنے کے لیے عمر بھر خاک چھانی اور کٹھن راستے طے کیے، اب اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ مرنے پر وہاں اسے لحد کی دو گز زمین بھی نصیب ہوگی یا نہیں۔ یہ شعر اس کسک کو دل میں اتار دیتا ہے جہاں انسان اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اپنے ہی خوابوں کے دیس میں اجنبی رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
