یہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہ کہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو

“Such exalted glory was granted unto the pilgrims, or else whence would angels have the fortune to kiss mortal brows?”

— میر انیس
معنی

یہ بلند عزت اور سرفرازی صرف زائرین کو نصیب ہوئی ہے، ورنہ فرشتوں کی ایسی قسمت کہاں تھی کہ وہ انسانوں کی پیشانیوں کو چومتے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے مقدس مقامات کی زیارت کرنے والوں کے بلند اور پاکیزہ مرتبے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عقیدت کی چوکھٹ پر جھکنے والی جبینوں کو وہ رتبہ ملتا ہے کہ نورانی فرشتے بھی انہیں چومنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ سچا عشق اور بندگی انسان کو فرشتوں سے بھی برتر مقام عطا کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.