سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو

“The lofty-minded are forever consumed by the urge to rise; yet it is we who brought down these poetic grounds from the skies.”

— میر انیس
معنی

بلند نظر رکھنے والوں کو ہمیشہ ترقی اور بلندی کی ہی فکر رہتی ہے، جبکہ ہم ان زمینوں کو آسمان سے نیچے لے کر آئے ہیں۔

تشریح

یہاں شاعر نے لفظ 'زمین' کی خوب صورت رعایت سے کام لیا ہے، جس سے مراد عام مٹی بھی ہے اور غزل کی بحر بھی۔ جو لوگ اونچی نظر رکھتے ہیں وہ ہمیشہ مزید بلندیوں کی تلاش میں رہتے ہیں، مگر شاعر کمال فخر سے کہتا ہے کہ ہم وہ سخن ور ہیں جو شاعری کی ان زمینوں کو خود آسمان سے اتار کر لائے ہیں۔ یہ شعر تخلیقی قوت اور شاعرانہ عظمت کا دلکش اظہار ہے جو عرش کے تخیل کو فرش پر سجا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 17Next →