جہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے کہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو

“Those who have departed from this world are never found again; from where shall we now seek and bring back our companions?”

— میر انیس
معنی

جو لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں وہ پھر کبھی واپس نہیں ملتے، اب ہم اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کو کہاں سے تلاش کر کے لائیں۔

تشریح

یہ شعر بچھڑ جانے والے پیاروں کی دائمی جدائی اور ان کے بعد پیدا ہونے والے لامتناہی خلا کا درد بیان کرتا ہے۔ شاعر حسرت کے ساتھ کہتا ہے کہ دنیا کی محفل سے جو مخلص ہم نشیں ایک بار رخصت ہو جائیں، انہیں لاکھ چاہنے کے باوجود کہیں سے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ یہاں محض موت کا تذکرہ نہیں، بلکہ ان پررونق مجلسوں اور مانوس رفاقتوں کے ہمیشہ کے لیے بکھر جانے کی ایسی کسک ہے جو دل کو ویران کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.