“These are not wrinkles on my hands; the frailty of old age has merely gathered the sleeves of my original robe into pleats.”
میرے ہاتھوں پر یہ جھریاں نہیں ہیں، بلکہ بڑھاپے کی کمزوری نے میرے اصلی لباس کی آستینوں میں سلوٹیں ڈال دی ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے بڑھاپے اور وقت کے اثرات کو ایک نہایت حسین اور پُروقار زاویے سے دیکھا ہے۔ وہ ہاتھوں کی جھریوں کو محض لاچاری یا زوال نہیں سمجھتے، بلکہ جسم کو وہ ’اصل لباس‘ قرار دیتے ہیں جس کی آستینوں کو عمرِ رفتہ نے چُن کر خوبصورت شکنوں میں ڈھال دیا ہے۔ یہ اندازِ بیان بڑھاپے کے احساس کو ایک باوقار حسن اور تسلیم و رضا کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
