غزل

اس کی نظروں میں انتخاب ہوا

اس کی نظروں میں انتخاب ہوا
جگر مرادآبادی· Ghazal· 16 shers· radif: हुआ

یہ غزل محبوب کی نظرِ انتخاب اور باہمی عشق کے سحر کی کامیابی کی دلکش عکاسی کرتی ہے۔ حسن کے دلنشیں اثر اور دوطرفہ محبت کے اعتراف سے پیدا ہونے والی سرشاری کو اس میں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
उस की नज़रों में इंतिख़ाब हुआ दिल अजब हुस्न से ख़राब हुआ
اس کی نظروں میں انتخاب ہوا دل عجب حسن سے خراب ہوا
اس کی نظروں نے اسے منتخب کر لیا، اور یہ دل ایک انوکھے حسن کے سبب برباد ہو گیا۔
2
इश्क़ का सेहर कामयाब हुआ मैं तिरा तू मिरा जवाब हुआ
عشق کا سحر کامیاب ہوا میں ترا تو مرا جواب ہوا
عشق کا جادو کامیاب ہو گیا؛ میں تمہارا ہو گیا اور تم میرا جواب بن گئے۔
3
हर नफ़स मौज-ए-इज़्तिराब हुआ ज़िंदगी क्या हुई अज़ाब हुआ
ہر نفس موج اضطراب ہوا زندگی کیا ہوئی عذاب ہوا
ہر سانس بے چینی اور تڑپ کی ایک لہر بن گئی ہے، اور زندگی جیسے ایک عذاب بن کر رہ گئی ہے۔
4
जज़्बा-ए-शौक़ कामयाब हुआ आज मुझ से उन्हें हिजाब हुआ
جذبۂ شوق کامیاب ہوا آج مجھ سے انہیں حجاب ہوا
میری محبت اور شوق کا جذبہ آج کامیاب ہو گیا ہے، کیونکہ آج محبوب کو میرے سامنے حجاب اور حیا محسوس ہوئی ہے۔
5
मैं बनूँ किस लिए न मस्त-ए-शराब क्यूँ मुजस्सम कोई शबाब हुआ
میں بنوں کس لیے نہ مست شراب کیوں مجسم کوئی شباب ہوا
میں شراب کے نشے میں مست کیوں نہ ہو جاؤں، جب کوئی مجسم جوانی بن کر سامنے آ گیا ہے۔
6
निगह-ए-नाज़ ले ख़बर वर्ना दर्द महबूब-ए-इज़्तिराब हुआ
نگۂ ناز لے خبر ورنہ درد محبوب اضطراب ہوا
اے ناز بھری نگاہ، میری خبر لے ورنہ یہ درد میری بے چینی کا محبوب بن جائے گا۔
7
मेरी बर्बादियाँ दुरुस्त मगर तू बता क्या तुझे सवाब हुआ
میری بربادیاں درست مگر تو بتا کیا تجھے ثواب ہوا
یہ تسلیم کہ میرا برباد ہونا درست تھا، مگر تم یہ بتاؤ کہ مجھے برباد کر کے تمہیں کیا کوئی ثواب حاصل ہوا؟
8
ऐन क़ुर्बत भी ऐन फ़ुर्क़त भी हाए वो क़तरा जो हबाब हुआ
عین قربت بھی عین فرقت بھی ہائے وہ قطرہ جو حباب ہوا
افسوس پانی کے اُس قطرے پر جو بلبلا بن گیا، کیونکہ وہ پانی کے عین قریب ہونے کے باوجود اُس سے بالکل جدا ہو گیا۔
9
मस्तियाँ हर तरफ़ हैं आवारा कौन ग़ारत-गर-ए-शराब हुआ
مستیاں ہر طرف ہیں آوارہ کون غارت گر شراب ہوا
ہر طرف مستیاں اور مدہوشی آوارہ گھوم رہی ہیں؛ شراب کو لوٹنے یا برباد کرنے والا آخر کون ہے؟
10
दिल को छूना न ऐ नसीम-ए-करम अब ये दिल रू-कश-ए-हबाब हुआ
دل کو چھونا نہ اے نسیم کرم اب یہ دل روکش حباب ہوا
اے کرم کی ہوا، اس دل کو مت چھونا کیونکہ اب یہ پانی کے بلبلے کی مانند انتہائی نازک ہو گیا ہے۔
11
इश्क़-ए-बे-इम्तियाज़ के हाथों हुस्न ख़ुद भी शिकस्त-याब हुआ
عشق بے امتیاز کے ہاتھوں حسن خود بھی شکست یاب ہوا
بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے کیے جانے والے عشق کے ہاتھوں، خود حسن کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
12
जब वो आए तो पेश-तर सब से मेरी आँखों को इज़्न-ए-ख़्वाब हुआ
جب وہ آئے تو پیشتر سب سے میری آنکھوں کو اذن خواب ہوا
جب وہ آئے تو سب سے پہلے میری آنکھوں کو سونے کی اجازت مل گئی۔
13
दिल की हर चीज़ जगमगा उट्ठी आज शायद वो बे-नक़ाब हुआ
دل کی ہر چیز جگمگا اٹھی آج شاید وہ بے نقاب ہوا
دل کی ہر چیز جگمگا اٹھی ہے؛ شاید آج محبوب بے نقاب ہو گیا ہے۔
14
दौर-ए-हंगामा-ए-नशात न पूछ अब वो सब कुछ ख़याल ओ ख़्वाब हुआ
دور ہنگامۂ نشاط نہ پوچھ اب وہ سب کچھ خیال و خواب ہوا
خوشیوں اور ہنگاموں کے اس دور کے بارے میں مت پوچھو، کیونکہ اب وہ سب کچھ محض ایک خیال اور خواب بن کر رہ گیا ہے۔
15
तू ने जिस अश्क पर नज़र डाली जोश खा कर वही शराब हुआ
تو نے جس اشک پر نظر ڈالی جوش کھا کر وہی شراب ہوا
تم نے جس بھی آنسو پر اپنی نظر ڈالی، وہ جوش میں آ کر شراب بن گیا۔
16
सितम-ए-ख़ास-ए-यार की है क़सम करम-ए-यार बे-हिसाब हुआ
ستم خاص یار کی ہے قسم کرم یار بے حساب ہوا
مجھے محبوب کے خاص ستم کی قسم ہے کہ اب محبوب کا کرم اور مہربانی بے حساب ہو چکی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.