دور ہنگامۂ نشاط نہ پوچھ — جگر مرادآبادی

دور ہنگامۂ نشاط نہ پوچھ اب وہ سب کچھ خیال و خواب ہوا

“Ask not of that season of joyous revelry; all of it now has turned to thought and dream.”

— جگر مرادآبادی

معنی

خوشیوں اور ہنگاموں کے اس دور کے بارے میں مت پوچھو، کیونکہ اب وہ سب کچھ محض ایک خیال اور خواب بن کر رہ گیا ہے۔

تشریح

یہ شعر ماضی کے خوشگوار اور رنگین لمحوں کے کھو جانے کا دل گداز نوحہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کبھی جن محفلوں میں خوشیوں کا ہنگامہ برپا تھا، اب ان کا تذکرہ مت چھیڑو کیونکہ وہ سب محض ایک خواب اور دھندلا سا خیال بن کر رہ گیا ہے۔ اس میں وقت کی بے ثباتی اور زندگی کے پلٹتے ہوئے رنگوں کا وہ درد چھپا ہے جو انسان کو ہنستی بستی محفلوں سے لا کر تنہائی کے کنارے کھڑا کر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.