ہر نفس موج اضطراب ہوا — جگر مرادآبادی

ہر نفس موج اضطراب ہوا زندگی کیا ہوئی عذاب ہوا

“Every breath turned into a surge of restless agony; what did this life become—nothing but torment and misery.”

— جگر مرادآبادی

معنی

ہر سانس بے چینی اور تڑپ کی ایک لہر بن گئی ہے، اور زندگی جیسے ایک عذاب بن کر رہ گئی ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے دل کے اس گہرے کرب کی تصویر کشی کی ہے جب انسان کے لیے جینا ہی سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ سانس لینا، جو حیات اور سکون کی علامت ہے، یہاں بے چینی کی ایک ایسی تند و تیز لہر بن چکی ہے جو ہر لمحہ روح کو تڑپاتی ہے۔ شاعر بے بسی اور حیرت سے شکوہ کرتے ہیں کہ آخر یہ زندگی کیسی مصیبت بن گئی کہ اس کا ہر پل ایک مسلسل عذاب محسوس ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.