ستم خاص یار کی ہے قسم — جگر مرادآبادی

ستم خاص یار کی ہے قسم کرم یار بے حساب ہوا

“I swear by the beloved’s exquisite tyranny, / The beloved's grace has now grown beyond measure.”

— جگر مرادآبادی

معنی

مجھے محبوب کے خاص ستم کی قسم ہے کہ اب محبوب کا کرم اور مہربانی بے حساب ہو چکی ہے۔

تشریح

اس شعر میں محبت کا وہ لطیف اور خوبصورت تضاد جھلکتا ہے جہاں محبوب کا ستم بھی عاشق کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔ شاعر محبوب کے اس خاص ظلم کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس کا یہ جور و جفا دراصل کسی بے حساب عنایت سے کم نہیں۔ عشق میں محبوب کی جانب سے ملنے والی ہر تکلیف دل کو اس لیے عزیز ہوتی ہے کیونکہ اس میں محبوب کا خاص التفات شامل ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev16 / 16