مستیاں ہر طرف ہیں آوارہ — جگر مرادآبادی

مستیاں ہر طرف ہیں آوارہ کون غارت گر شراب ہوا

“Intoxications wander adrift on every side; who is it that has plundered the wine?”

— جگر مرادآبادی

معنی

ہر طرف مستیاں اور مدہوشی آوارہ گھوم رہی ہیں؛ شراب کو لوٹنے یا برباد کرنے والا آخر کون ہے؟

تشریح

شاعر ایک سحر انگیز منظر کشی کرتے ہیں جیسے میخانہ لٹ چکا ہو اور شراب کا کوئی بڑا مٹکا ٹوٹنے سے نشہ اور سرمستی فضا میں ہر طرف بکھر گئی ہو۔ وہ حیرت و استعجاب سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون خوش نصیب لٹیرا ہے جس نے شراب پر ایسا ڈاکہ ڈالا کہ مدہوشی قابو سے باہر ہو کر آوارہ پھرنے لگی ہے۔ درحقیقت یہ محبوب کے جلوۂ حسن یا عشق کی اس بے قابو کیفیت کا بیان ہے جو کسی پیمانے میں قید نہیں رہ سکتی اور پورے عالم کو مخمور کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.