عین قربت بھی عین فرقت بھی — جگر مرادآبادی

عین قربت بھی عین فرقت بھی ہائے وہ قطرہ جو حباب ہوا

“The height of nearness, yet the depths of estrangement— / Alas, that very drop which became a bubble!”

— جگر مرادآبادی

معنی

افسوس پانی کے اُس قطرے پر جو بلبلا بن گیا، کیونکہ وہ پانی کے عین قریب ہونے کے باوجود اُس سے بالکل جدا ہو گیا۔

تشریح

سمندر میں ابھرنے والے بلبلے پر غور کیجیے، جو پانی ہی سے وجود پاتا ہے اور پانی کے بیچ ہی رہتا ہے، مگر ہوا کا ایک باریک سا پردہ اسے بحرِ بے کراں سے الگ کر دیتا ہے۔ شاعر نے اس تمثیل سے دل کا وہ عجیب المیہ بیان کیا ہے جہاں انسان بظاہر کسی کے سب سے زیادہ قریب ہو کر بھی بے پناہ دوری اور تنہائی محسوس کرتا ہے۔ یہ دراصل انسانی انا کا دکھ ہے، جو قربت کی انتہا پر بھی جدائی کی ایک نادیدہ دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.