عشق بے امتیاز کے ہاتھوں — جگر مرادآبادی

عشق بے امتیاز کے ہاتھوں حسن خود بھی شکست یاب ہوا

“At the hands of a love that makes no distinction, Beauty itself was brought to defeat.”

— جگر مرادآبادی

معنی

بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے کیے جانے والے عشق کے ہاتھوں، خود حسن کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تشریح

روایتی شاعری میں حسن ہمیشہ مغرور اور لاپروا نظر آتا ہے، جبکہ عشق اس کے آگے دست بستہ کھڑا رہتا ہے۔ مگر اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جب عشق 'بے امتیاز' ہو جائے—یعنی وہ کسی تفریق، شرط یا ناز برداری کا محتاج نہ رہے—تو حسن کا سارا رعب اور غرور ماند پڑ جاتا ہے۔ جب چاہنے والا بغیر کسی غرض اور تمیز کے ٹوٹ کر چاہنے لگے، تو حسن کے پاس ناز و انداز دکھانے کی گنجائش ہی نہیں بچتی اور وہ خود ہار مان لیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.