تو نے جس اشک پر نظر ڈالی — جگر مرادآبادی

تو نے جس اشک پر نظر ڈالی جوش کھا کر وہی شراب ہوا

“Upon whichever tear you cast your gaze, stirred with passion, into wine it turned.”

— جگر مرادآبادی

معنی

تم نے جس بھی آنسو پر اپنی نظر ڈالی، وہ جوش میں آ کر شراب بن گیا۔

تشریح

یہ شعر محبوب کی نگاہِ کرم کے جادوئی اور کیمیاوی اثر کو خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے۔ آنسو تو درد اور رنج کی علامت ہوتا ہے، مگر جیسے ہی معشوق نے اس پر محبت بھری نظر ڈالی، وہی قطرہ جوش کھا کر نشہ آور شراب بن گیا۔ شاعر کا دلنشیں انداز یہ بتاتا ہے کہ محبت میں محبوب کی ذرا سی توجہ بھی انسان کے دکھ کو ایک سرور اور روحانی جشن میں بدل دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.