دل کو چھونا نہ اے نسیم کرم — جگر مرادآبادی
“Touch not this heart, O gentle breeze of grace, for it now rivals a fragile bubble's face.”
معنی
اے کرم کی ہوا، اس دل کو مت چھونا کیونکہ اب یہ پانی کے بلبلے کی مانند انتہائی نازک ہو گیا ہے۔
تشریح
شاعر لطف و عنایت کی ٹھنڈی ہوا سے التجا کر رہا ہے کہ وہ اس کے دل کو نہ چھوئے، کیونکہ مسلسل صدموں نے اسے پانی کے بلبلے کی مانند بے حد نازک کر دیا ہے۔ دل اس موڑ پر آ چکا ہے کہ نرم سے نرم ہوا کا جھونکا بھی اسے لمحوں میں توڑ سکتا ہے۔ یہ شعر انسان کی اس دلی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان اتنا ٹوٹ چکا ہوتا ہے کہ کرم اور ہمدردی کا ہلکا سا لمس بھی سہہ نہیں پاتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
