میں بنوں کس لیے نہ مست شراب — جگر مرادآبادی

میں بنوں کس لیے نہ مست شراب کیوں مجسم کوئی شباب ہوا

“Why should I not be drunk on wine, when youth itself has taken bodily form?”

— جگر مرادآبادی

معنی

میں شراب کے نشے میں مست کیوں نہ ہو جاؤں، جب کوئی مجسم جوانی بن کر سامنے آ گیا ہے۔

تشریح

شاعر یہاں اپنی بے خودی اور مدہوشی کا ایک نہایت دلکش عذر پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں دیوانہ وار اس کے سحر میں مبتلا ہو گیا ہوں تو اس میں میرا کیا قصور؟ جب جوانی اور حسن خود ایک پیکر بن کر محبوب کے روپ میں جلوہ گر ہو جائے، تو دل کا سنبھلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ دراصل یہ محبوب کی دلفریب تازگی کی والہانہ تعریف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.