غزل
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
یہ غزل عشق میں بے لوث فدائیت اور محبت کی باہمی بے قراری کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محبوب کے ہزاروں چاہنے والوں میں خود کو بھی ایک مخلص جاں نثار قرار دیتے ہوئے باہمی تڑپ اور قلبی وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
उन के इक जाँ-निसार हम भी हैं
हैं जहाँ सौ हज़ार हम भी हैं
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
ہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں
ہم بھی محبوب پر اپنی جان قربان کرنے والوں میں سے ایک ہیں؛ جہاں ایسے سینکڑوں اور ہزاروں فدائی موجود ہیں، وہاں ہم بھی شامل ہیں۔
2
तुम भी बेचैन हम भी हैं बेचैन
तुम भी हो बे-क़रार हम भी हैं
تم بھی بے چین ہم بھی ہیں بے چین
تم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں
تم بھی بے چین ہو اور ہم بھی بے چین ہیں، تم بھی بے قرار ہو اور ہم بھی بے قرار ہیں۔
3
ऐ फ़लक कह तो क्या इरादा है
ऐश के ख़्वास्त-गार हम भी हैं
اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہے
عیش کے خواست گار ہم بھی ہیں
اے آسمان (تقدیر)، ذرا بتا کہ تیرا کیا ارادہ ہے؛ زندگی میں آرام اور عیش و نشاط کے طلب گار ہم بھی ہیں۔
4
खींच लाएगा जज़्ब-ए-दिल उन को
हमा तन इंतिज़ार हम भी हैं
کھینچ لائے گا جذب دل ان کو
ہمہ تن انتظار ہم بھی ہیں
ہمارے دل کی کشش ضرور انہیں کھینچ لائے گی، اور ہم بھی اپنے پورے وجود کے ساتھ ان کے انتظار میں ہیں۔
5
बज़्म-ए-दुश्मन में ले चला है दिल
कैसे बे-इख़्तियार हम भी हैं
بزم دشمن میں لے چلا ہے دل
کیسے بے اختیار ہم بھی ہیں
دل مجھے دشمنوں کی محفل میں لے گیا ہے؛ دیکھیے کہ ہم بھی اپنے دل کے ہاتھوں کس قدر بے بس ہیں۔
6
शहर ख़ाली किए दुकाँ कैसी
एक ही बादा-ख़्वार हम भी हैं
شہر خالی کئے دکاں کیسی
ایک ہی بادہ خوار ہم بھی ہیں
شہر کو ویران سمجھ کر دکان (مے خانہ) کیوں بند کر رہے ہو؟ اگرچہ تنہا ہی سہی، آخر ایک شراب پینے والے ہم بھی تو یہاں موجود ہیں۔
7
शर्म समझे तिरे तग़ाफ़ुल को
वाह क्या होशियार हम भी हैं
شرم سمجھے ترے تغافل کو
واہ کیا ہوشیار ہم بھی ہیں
ہم نے تمہاری بے رخی اور غفلت کو تمہاری شرم و حیا سمجھ لیا؛ واہ، ہم بھی خود کو کتنے عقل مند سمجھتے ہیں۔
8
हाथ हम से मिलाओ ऐ मूसा
आशिक़-ए-रू-ए-यार हम भी हैं
ہاتھ ہم سے ملاؤ اے موسیٰ
عاشق روئے یار ہم بھی ہیں
اے موسیٰ، ہم سے ہاتھ ملائیے کیونکہ محبوب کے چہرے کے عاشق ہم بھی ہیں۔
9
ख़्वाहिश-ए-बादा-ए-तुहूर नहीं
कैसे परहेज़-गार हम भी हैं
خواہش بادۂ طہور نہیں
کیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں
ہمیں جنت کی پاک شراب کی بھی کوئی تمنا نہیں ہے؛ ذرا دیکھیے، ہم بھی کیسے پرہیزگار ہیں۔
10
तुम अगर अपनी गूँ के हो मा'शूक़
अपने मतलब के यार हम भी हैं
تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق
اپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں
اگر تم صرف اپنی غرض اور مطلب کے معشوق ہو، تو ہم بھی صرف اپنے ہی فائدے کے یار ہیں۔
11
जिस ने चाहा फँसा लिया हम को
दिलबरों के शिकार हम भी हैं
جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کو
دلبروں کے شکار ہم بھی ہیں
جس کسی نے بھی چاہا اس نے ہمیں اپنے جال میں پھنسا لیا، آخر ہم بھی دلبروں کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
12
आई मय-ख़ाने से ये किस की सदा
लाओ यारों के यार हम भी हैं
آئی مے خانے سے یہ کس کی صدا
لاؤ یاروں کے یار ہم بھی ہیں
شراب خانے سے یہ کس کی آواز آئی ہے کہ لاؤ شراب پیش کرو، ہم بھی تو دوستوں کے دوست ہیں۔
13
ले ही तो लेगी दिल निगाह तिरी
हर तरह होशियार हम भी हैं
لے ہی تو لے گی دل نگاہ تری
ہر طرح ہوشیار ہم بھی ہیں
تمہاری نگاہ آخرکار دل چھین ہی تو لے گی، لیکن ہم بھی ہر طرح سے محتاط اور ہوشیار ہیں۔
14
इधर आ कर भी फ़ातिहा पढ़ लो
आज ज़ेर-ए-मज़ार हम भी हैं
ادھر آ کر بھی فاتحہ پڑھ لو
آج زیر مزار ہم بھی ہیں
اس طرف بھی آ کر فاتحہ پڑھ لو، کیونکہ آج ہم بھی قبر کے نیچے دفن ہیں۔
15
ग़ैर का हाल पूछिए हम से
उस के जलसे के यार हम भी हैं
غیر کا حال پوچھئے ہم سے
اس کے جلسے کے یار ہم بھی ہیں
رقیب کا حال ہم سے پوچھیے، کیونکہ اس کی محفل کے دوستوں میں ہم بھی شامل ہیں۔
16
कौन सा दिल है जिस में 'दाग़' नहीं
इश्क़ में यादगार हम भी हैं
کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیں
عشق میں یادگار ہم بھی ہیں
ایسا کون سا دل ہے جس میں کوئی داغ نہیں ہے، عشق کے میدان میں ہم بھی ایک یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
