غیر کا حال پوچھئے ہم سے — داغ دہلوی
“Ask of me how the rival fares; for we, too, attend that gathering of theirs.”
معنی
رقیب کا حال ہم سے پوچھیے، کیونکہ اس کی محفل کے دوستوں میں ہم بھی شامل ہیں۔
تشریح
اس شعر میں ایک گہرا طنز اور دل شکن بے بسی چھپی ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ رقیب کی خوشحالی اور اس کے ٹھاٹھ باٹھ کا حال مجھ سے پوچھیے، کیونکہ محبوب کی جس محفل میں اس پر نوازشیں ہوتی ہیں، وہاں ہم بھی تماشائی بن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ محبوب کے دل میں اب کوئی خاص مقام نہ رہا، بس اس کی محفل کا ایک بے وقعت سا حصہ بن کر اپنے ہی پیار کو غیر کے پہلو میں دیکھنا عاشق کا مقدر بن گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
