تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق — داغ دہلوی
“If you are a beloved bound only to your own whim, we too are companions devoted solely to our own design.”
معنی
اگر تم صرف اپنی غرض اور مطلب کے معشوق ہو، تو ہم بھی صرف اپنے ہی فائدے کے یار ہیں۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کا ایک شوخ اور خوددار انداز سامنے آتا ہے، جہاں وہ روایتی مظلومی کو ہنس کر پرے جھٹک دیتا ہے۔ وہ محبوب سے دوٹوک کہتا ہے کہ اگر تم صرف اپنی غرض اور ناز و نخرے کے اسیر ہو، تو ہم بھی کوئی یکطرفہ جان نچھاور کرنے والے نہیں بلکہ اپنے مطلب کی خوب پہچان رکھتے ہیں۔ یہ شعر محبت میں ایک طرفہ عاجزی کے بجائے برابری، انا اور ایک دلکش چھیڑ چھاڑ کا احساس پیدا کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
