جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کو — داغ دہلوی

جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کو دلبروں کے شکار ہم بھی ہیں

“Whoever desired, ensnared me with ease; I too, after all, am prey to the heart-stealers.”

— داغ دہلوی

معنی

جس کسی نے بھی چاہا اس نے ہمیں اپنے جال میں پھنسا لیا، آخر ہم بھی دلبروں کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے بڑی شگفتگی اور معصومیت سے اپنے دل کی سادگی کا اعتراف کیا ہے۔ وہ خود کو محبوباؤں کے لیے ایک بے بس شکار قرار دیتے ہیں، جسے کسی بھی دلربا نے جب چاہا، اپنی اداؤں کے جال میں باآسانی قید کر لیا۔ یہ محبت میں بار بار دل ہارنے والے ایک ایسے عاشق کی داستان ہے جو اپنی اس لاچاری پر بھی مسکرا رہا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.