بزم دشمن میں لے چلا ہے دل — داغ دہلوی

بزم دشمن میں لے چلا ہے دل کیسے بے اختیار ہم بھی ہیں

“The heart has led me away into the gathering of the foe; behold, how utterly powerless we too have come to be.”

— داغ دہلوی

معنی

دل مجھے دشمنوں کی محفل میں لے گیا ہے؛ دیکھیے کہ ہم بھی اپنے دل کے ہاتھوں کس قدر بے بس ہیں۔

تشریح

اس شعر میں دل کے ہاتھوں انسان کی بے بسی کا بڑا دلکش اور حسرت بھرا اعتراف ہے۔ شاعر اپنے ہوش و حواس میں دشمنوں کی محفل کی طرف کھنچا چلا جا رہا ہے، محض اس لیے کہ ضدی دل کو وہیں جانا ہے جہاں شاید محبوب کی جھلک مل جائے۔ یہ عشق کی اس کیفیت کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جہاں عقل اور غیرت ہار مان جاتی ہیں اور انسان اپنے ہی دل کے آگے بالکل بے بس ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.