کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیں — داغ دہلوی

کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیں عشق میں یادگار ہم بھی ہیں

“Which heart is there that bears no scar? In the realm of love, we too are a lasting keepsake.”

— داغ دہلوی

معنی

ایسا کون سا دل ہے جس میں کوئی داغ نہیں ہے، عشق کے میدان میں ہم بھی ایک یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تشریح

اس خوبصورت شعر میں داغؔ دہلوی نے اپنے تخلص پر کمال کا لطف پیدا کیا ہے، جہاں 'داغ' سے مراد محبت کا زخم بھی ہے اور خود شاعر کی ذات بھی۔ وہ مسکرا کر پوچھتے ہیں کہ بھلا ایسا کون سا دل ہے جس پر محبت کی چوٹ کا کوئی نشان نہ ہو؟ چونکہ ہر دل میں ایک داغ بستا ہے، اس لیے وہ ناز کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ بھی عشق کی دنیا میں ایک انمٹ اور لازوال یادگار بن چکے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev16 / 16