خواہش بادۂ طہور نہیں — داغ دہلوی

خواہش بادۂ طہور نہیں کیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں

“No longing do we hold for Heaven's holy wine; behold, what a pious abstainer I too have become!”

— داغ دہلوی

معنی

ہمیں جنت کی پاک شراب کی بھی کوئی تمنا نہیں ہے؛ ذرا دیکھیے، ہم بھی کیسے پرہیزگار ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے بڑی پُرلطف اور خوبصورت شوخی سے کام لیا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہمیں تو جنت کی پاکیزہ شراب (بادۂ طہور) کی بھی طلب نہیں، ذرا دیکھیے تو سہی ہم کس درجے کے پرہیزگار بن بیٹھے ہیں! بظاہر یہ پارسائی کا دعویٰ ہے، مگر درحقیقت اس کے پیچھے یہ راز چھپا ہے کہ سچے عاشق کو دنیاوی عشق و مستی کے آگے بہشت کے وعدوں اور نعمتوں کی بھی کوئی پروا نہیں رہتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.