اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہے — داغ دہلوی
“Speak, O heavens, what is your design? We, too, are seekers of joy and delight.”
معنی
اے آسمان (تقدیر)، ذرا بتا کہ تیرا کیا ارادہ ہے؛ زندگی میں آرام اور عیش و نشاط کے طلب گار ہم بھی ہیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر فلک یعنی اپنی قسمت اور زمانے سے براہِ راست مخاطب ہو کر شکوہ کناں ہے کہ آخر اس کی آزمائشوں کا ارادہ کیا ہے۔ وہ بڑی سادگی مگر وقار کے ساتھ یاد دلاتا ہے کہ وہ بھی ایک جیتا جاگتا انسان ہے اور خوشی و سکون کا اتنا ہی طلب گار ہے جتنا کوئی دوسرا۔ یہ تقدیر کی ستم ظریفی پر کوئی تلخ وار نہیں بلکہ دل کا ایک معصوم سا گلہ ہے، جس میں زندگی سے راحت پانے کی ازلی آرزو جھلکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
